بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2436 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بالوں کا وگ (نقلی بال) پہننا کیسا ہے ؟
سوال : کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کا اس بارے میں کی بالوں کا وگ (نقلی بال) پہننا یا بالوں کو جوڑنا کیسا ہے جیسے عورتیں اپنے بالوں میں نقلی بال جوڑ کر بڑھاتی ہیں وہ نائلن کا مصنوعی ہوتا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ نائلن کے مصنوعی بال سے بچنا چاہیے, شریعت مطہرہ نے کوئی ممانعت نہیں فرمائی ہے، تاہم جہاں تک ہو سکے اس سے بچنا چاہیے البتہ انسان کا بال اپنے بالوں میں لگا کر بڑھانا جائز نہیں بلکہ گناہ ہے، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ہے اور ایسے لوگوں پر لعنت بھی فرمائی ہے. ہاں سر میں بالوں کی کاشت ناجائز ہے کہ یہ بلا حاجت شرعی ضرر رسانی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ