بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1441 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بالغ لڑکا جس کو داڑھی نہ آئی ہو امامت کرسکتا ہے یا نہیں؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ سوال۔ ایک مدرسے میں پڑھنے والا طالب علم بالغ ہے پر اس کی داڑھی نہیں جمی ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ سائل: عادل رضا قادری الجواب بعون الملک الوھاب کرسکتا ہے جبکہ کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ ہاں اگر وہ خوبصورت محل فتنہ ہو ، تو اس کے پیچھے نماز مکروہِ تنزیہی یعنی ناپسندیدہ ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر بالغ ہے تو ہر نماز یہاں تک کہ فرائض پنجگانہ بھی اس کے پیچھے ہو توجائیں گے کہ داڑھی مونچھ شرط صحت امامت نہیں بلوغ درکار ہے ” اھ (فتاوی رضویہ جدید, ج٦, ص٣٨٩, کتاب الصلاۃ, باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور آپ علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا”ھل تجوز الصلاۃ خلف الامرد الذی ھو ابن ستۃ عشر سنۃ(کیا سولہ سالہ امرد کے پیچھے نماز جائز ہوتی ہے)؟“ جواباً تحریر فرمایا:”نعم تجوز ان لم یکن مانع شرعی لانہ بالغ شرعا و ان لم تظھر الاثار، نعم تکرہ ان کان صبیحا محل الفتنۃ کما فی رد المحتار عن الرحمتی(ہاں جائز ہے اگر کوئی مانعِ شرعی نہ ہو کیونکہ شرعا وہ بالغ ہے اگرچہ بلوغت کے آثار ظاہر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر وہ خوبصورت محلِ فتنہ ہو تو مکروہ(تنزیہی)ہو گی جیسا کہ رد المحتار میں علامہ رحمتی کے حوالے سے ہے)۔“ اھ (فتاویٰ رضویہ،ج٦, ص٦١٢, کتاب الصلاۃ باب الامامۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ