لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ایک گستاخانہ قول کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ایک گستاخانہ قول کا حکم

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ۔اس مسلہ کے بارے میں : زید کے گھر کے پاس دو مسجدِ ہیں، ایک زید کے گھر کے پاس اور دوسری زید کے گھر سے کم وبیش بیس قدم کی دوری پر ۔زید کے گھر کے پاس عمرو کا مکان ہے۔۔جمعہ کا وقت تھا زید اور عمرودونوں نماز کے لیے تیار ہوکر گھر سے نکلے۔زید اس مسجد کی طرف چلا جو اُسکے گھرسے بیس قدم کی دوری پر ہے۔تب عمرو نے زید سے کہا اس میں چلئے جو پاس میں ہے زید نے عمرو کا جواب دیتے ہوئے کہا میں تو اُس مسجد میں جاونگا جو بیس قدم کی دوری پر ہے ۔۔اور جتنے قدم چلیں گے اُتنی ہی نیکیاں ملیں گی۔تب اس بات پر عمرو نے گالی دے کر کہا کون کہتا ہے۔۔یعنی یہ گالی اُس کے لیے تھی جس نے یہ کہا مسجد کی طرف بڑھنے والے قدم پر نیکی ہے۔۔عمرو کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔عمرو پر کیا شرعی حکم ہوگا؟ جواب دیکر عند اللہ ماجور ہوں۔ الجوابــــــــــــــــــــ عمرو نے بہت گستاخانہ بات کہی اس پر توبہ لازم ہے اور تجدید ایمان و نکاح بھی کرے اور اگر اس نے زید کی بات کو حدیثِ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جانتے ہوئے یہ گستاخانہ بات کہی تو وہ یقیناً کافر ہوگیا اگر وہ توبہ اور تجدید ایمان نہ کرے تو مسلمانوں کواس سے قطع تعلق لازم ہے۔ فتاوی خانیہ میں ہے "اذا عاب الرجل النبي علیہ السلام في شيء کان کافراً۔” (فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیہ، کتاب السیر ج ۴ص ۴٦٨) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: عقیدہ (۴۹): حضور (صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کسی قول و فعل و عمل و حالت کو جو بہ نظرِ حقارت دیکھے کافر ہے۔” (بہار شریعت ح ١ ص٨١) اور اللہ جل شانہ کا فرمان ہے : وَإِمَّا یُنسِیَنَّكَ ٱلشَّیۡطَـٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِینَ۔ (سورہ انعام: ٦٨) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۴/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٦/اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات