دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2096
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,521
سوال (Question):
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
سوال : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔ اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ ” لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔ اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے” لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔” وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat