بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1823 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک عورت کا انتقال ہوا اس نے باپ اور بیٹا چھوڑا ۔
مسئلہ کتنے سے بنے گا اور کس کو کتنا ملے گا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم مایقدم علی الارث صورت مسئولہ میں باپ "ذوفرض محض” ہوگا، بطور فرض ایک سدس [١/٦] کامستحق ہوگا، الله تعالیٰ کا فرمان ہے "وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ” (سورہ نساء : ۱۱) (ترجمہ: اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.) اور بیٹا عصبہ بنفسہ ہوگا. مسئلہ ٦ سے بنے گا، ایک حصہ باپ کو اور باقی ماندہ ٥ حصے بیٹے کے دیں گے . واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ