دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1824
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,116
سوال (Question):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیٹی ماں اور بھائی چھوڑا ؟
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين بیٹی بطور فرض نصف[١/٢] حصہ کی مستحق ہوگی. ارشاد ہے “وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ” (سورہ نساء، آیت : ۱۱) (ترجمہ : اور اگر بیٹی ایک ہے تو اس کےلئے نصف حصہ ہے.) ماں کے لئے ترکہ سے ایک سدس [١/٦] حصہ ہوگا “وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ” (ترجمہ : اور والدین میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی کوئی اولاد ہو.) اور بھائی عصبہ بنفسہ ہوگا۔ متوفی کے کل ترکہ کو ٦ حصوں میں تقسیم کریں گے، ٣ بیٹی کو دیں گے، ١ ماں کو اور باقی ٢ حصے بھائی کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat