دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1808
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,222
سوال (Question):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایک شخص کا انتقال ہوا اس نے بیوی ماں باپ چھوڑا؟
الجواب بعون الملک الوھاب بعد تقدیم ما یقدم علی الإرث و انحصار ورثه فی المذكورين میت کی اولاد نہ ہونے کی صورت میں بیوی کا حصہ ربع [١/٤] ہے،ارشادہے ” وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ یَکُنۡ لَّکُمۡ وَلَدٌ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۲) اور تمہارے ترکہ میں بیویوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو. ماں کا حصہ بطورِ فرض ثلث مابقی [١/٣] ہے،یعنی بیوی کو دینے کے بعد جو بچے گا اس کا ثلث ماں کو ملے گا، الله کا فرمان ہے “فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ” (سورہ نساء ، آیت : ۱۱) (ترجمہ: پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہائی حصہ ہے.) بہار شریعت میں ہے : اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھرجو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا۔(ح بستم ،ص ١١٣٤) اور باپ یہاں عصبہ محض ہوگا. کل ترکہ کو ١٢حصوں میں تقسیم کرکے ٣ حصہ بیوی کو دیں گے ، باقی ماندہ ترکہ ٩ سے ایک تہائی یعنی ٣ حصہ ماں کو دیں گے ، پھر بقیہ ٦ حصہ باپ کو دیں گے. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب . کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat