دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2517
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ایک شخص بد عقیدہ تھا اور وہ اب خوش عقیدہ ہوچکا ہے تو کیا اس کو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,806
سوال (Question):
ایک شخص بد عقیدہ تھا اور وہ اب خوش عقیدہ ہوچکا ہے تو کیا اس کو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایک شخص بد عقیدہ تھا اور وہ اب خوش عقیدہ ہوچکا ہے تو کیا اس کو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟
الجوابــــــــــــــــــــــــ اگر آدمی بدعقیدہ تھا اور اس کی بدعقیدگی حدکفر تک پہنچی ہوئی تھی اور اسی بدعقیدگی میں اس کا نکاح ہوا تھا تو اس کا نکاح نہیں ہوا ، لہذا جیسے ہی اس نے کلمہ پڑھا اور اھل سنت جماعت میں داخل ہوا اس پر فرض ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو فوراً شرعی طریقے کے مطابق اپنا نکاح کرلیں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat