لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ایک ساتھ کمائی میں والد اور اولاد پر قربانی کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ایک ساتھ کمائی میں والد اور اولاد پر قربانی کا حکم

سوال : ایک آدمی کاروبار کر رہا ہے اور وہ مالک نصاب بھی ہے. اس کے علاوہ اس کے بیٹے بھی کاروبار کرتے ہیں، اور بیٹے اپنی مرضی سے خرید اور فروخت اور خرچ کر سکتے ہیں، لیکن اختیار پھر سارا ان کے والد کے پاس ہے، یعنی وہ جو مرضی کاروبار یا رقم کے ساتھ کرنا چاہے بیٹوں کو اعتراض نہیں ہو سکتا، دوسرے لفظوں میں سربراہ والد صاحب ہیں.اس صورت حال میں قربانی سب پر واجب ہو گی؟ یا صرف سربراہ پر؟؟ سائل : افتخار خان کرناٹک الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب والد پر صاحبِ نصاب ہونے کی وجہ سے قربانی واجب ہے ،اور بیٹوں کے پاس اگرذاتی ملکیت میں اتنی رقم موجود ہے جس کی وجہ سے وہ صاحبِ نصاب بنتے ہوں تو ان پر بھی قربانی واجب ہوگی۔یعنی جس جس بیٹے کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت کے برابر نقد رقم یا ضرورت سے زائد سازوسامان موجود ہو تو اس بیٹے پر بھی قربانی واجب ہوگی۔اور اگر بیٹوں کے پاس ذاتی رقم کوئی نہیں ہے، بلکہ سب کچھ کماکر والد کو ہی مالک بناکر انہیں دےدیتے ہیں تو اس صورت میں بیٹوں پر قربانی واجب نہ ہوگی۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات