بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1165 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک آنکھ نہ ہو تو ایسے عالم دین کے پیچھے نماز پڑھنا کیساہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ زید کی ایک آنکھ نہیں ہے اور وہ عالم دین ہے کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اگر ہاں تو حوالہ سے مزین فرمائیں اور اگر کراہت ہے تو اسکی مکمل وضاحت کریں عین نوازش ہوگی المستفتی: محمد عبد الجلیل اشرفی دیناجپوری الجـــــوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب یک چشم عالم اگر سنی صحیح العقیدہ ، صحیح القرأت ، واقف مسائل طہارت و نماز اور پابند شرع ہے تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا جائز و درست ہے ۔ حضور فقیہ الملت والدین حضرت مفتی جلال الدین امجدی صاحب قبلہ رحمہ اللہ تعالیٰ اسی طرح سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں ” یک چشم اگر سنی صحیح العقیدہ ، صحیح القرأت ، مسائل نماز سے واقف اور پابند شرع ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ” اھ ( فتاوی فیض الرسول ج:1/ص:316/ شبیر برادرز اردو بازار لاہور پاکستان) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــــــہ :حضرت مفتی اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ، 22۔۔۔ذوالقعدہ۔۔۔1444ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ