بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1898 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟
سوال : ایسے آدمی کی دعوت قبول کرنا یا اس سے چندہ لینا جس کے پاس حلا ل و حرام دونوں قسم کا مال ہو کیسا ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ بعینہ مال حرام سے چندہ دے رہا ہے ۔یا دعوت کرارہا ہے اس وقت تک اس سے چندہ لینا اور اس کے یہاں دعوت کھانا ۔اس کا ہدیہ قبول کرنا سب جائزو درست ہے مگر اس سب سے بچنا اولی ہے کہ خواہ مخواہ لوگ بدگمانی کے شکار ہونگے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے "جائز بایں معنی تو ہے کہ کھاے گا تو کوئی شئ حرام نہ کھائی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شئ جو میرے سامنے آئی بعینہ حرام ہے ۔ بہ ناخذ مالم نعرف شیا حرام بعینہ نص علیہ محررالمذھب الامام محمد رحمہ اللہ تعالی کمافی الذخیرہ وغیرھا. مگر احتراز اولی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن ذلک الطعام غصبا ورشوۃ "اھ (فتاوی رضویہ. ج. 9 ص. 106 ) کتبـــــــہ: شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ