دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1898
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,523
سوال (Question):
ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ایسے آدمی کی دعوت میں جانا جو حلال و حرام دونوں مال رکھتا ہو ؟
سوال : ایسے آدمی کی دعوت قبول کرنا یا اس سے چندہ لینا جس کے پاس حلا ل و حرام دونوں قسم کا مال ہو کیسا ہے ؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ وہ بعینہ مال حرام سے چندہ دے رہا ہے ۔یا دعوت کرارہا ہے اس وقت تک اس سے چندہ لینا اور اس کے یہاں دعوت کھانا ۔اس کا ہدیہ قبول کرنا سب جائزو درست ہے مگر اس سب سے بچنا اولی ہے کہ خواہ مخواہ لوگ بدگمانی کے شکار ہونگے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے “جائز بایں معنی تو ہے کہ کھاے گا تو کوئی شئ حرام نہ کھائی جب تک معلوم نہ ہو کہ یہ شئ جو میرے سامنے آئی بعینہ حرام ہے ۔ بہ ناخذ مالم نعرف شیا حرام بعینہ نص علیہ محررالمذھب الامام محمد رحمہ اللہ تعالی کمافی الذخیرہ وغیرھا. مگر احتراز اولی خصوصا جب کہ غالب حرام ہو خروجا عن الخلاف وکما فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الامام ابی جعفر احب الی فی دینہ ان لا یاکل ویسعہ حکما ان لم یکن ذلک الطعام غصبا ورشوۃ “اھ (فتاوی رضویہ. ج. 9 ص. 106 ) کتبـــــــہ: شاہد رضا امجدی جامعی بالپور بازار گونڈا
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat