لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اگر مکہ شریف میں موجود شخص نے عمرہ کا احرام اندرونِ حرم باندھ لیا تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اکرام و مفتیانے دین مسئلہ ذیل میں کہ۔ زید عمرہ کرنے گیا تھا اور اس نے مسجد میقات پر احرام پہنا پھر مکہ ت المکرمہ آیا یہاں آکر طواف کعبہ و صفا مروہ ، بال مڈوانہ وغیرہ عمرہ کے ارکان کرنے کے بعد واپس روم پر گیا اور احرام نکالنے کے 2 گھنٹہ بعد غسل کر کے وہی احرام پہن کر رووم سے ہی عمرہ کیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید پر دم واجب ہوگی ؟اور اگر ہوگی تو، زید مدینہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے تو وہ پھر کب اور کیسے دم دےگا ۔ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔ سائل ۔ نور جمال اعظمی یوپی الہند۔ الجواب: صورتِ مسئولہ میں اس شخص پر واجب تھا کہ دوسرے عمرہ کا احرام حرم کے باہر مثلا تنعیم سے باندھتا۔ اب جب کہ اس نے واجب کی خلاف ورزی کرکے اندرونِ حرم سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ مکمل کرلیا تو اس پر دم(قربانی) واجب ہے۔ در مختار میں ہے: "(وَ) الْمِيقَاتُ (لِمَنْ بِمَكَّةَ) يَعْنِي مَنْ بِدَاخِلِ الْحَرَمِ (لِلْحَجِّ الْحَرَمُ وَلِلْعُمْرَةِ الْحِلُّ) لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ، وَالتَّنْعِيمُ أَفْضَلُ۔” (در مختار ج٣ ص۴٨۴) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "قَوْلُهُ لِيَتَحَقَّقَ نَوْعُ سَفَرٍ) لِأَنَّ أَدَاءَ الْحَجِّ فِي عَرَفَةَ، وَهِيَ فِي الْحِلِّ فَيَكُونُ إحْرَامُ الْمَكِّيِّ بِالْحَجِّ مِنْ الْحَرَمِ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعُ سَفَرٍ بِتَبَدُّلِ الْمَكَانِ، وَأَدَاءِ الْعُمْرَةِ فِي الْحَرَمِ فَيَكُونُ إحْرَامُهُ بِهَا مِنْ الْحِلِّ لِيَتَحَقَّقَ لَهُ نَوْعٌ مِنْ السَّفَرِ شَرْحُ النُّقَايَةِ لِلْقَارِي فَلَوْ عَكَسَ فَأَحْرَمَ لِلْحَجِّ مِنْ الْحِلِّ أَوْ لِلْعُمْرَةِ مِنْ الْحَرَمِ لَزِمَهُ دَمٌ إلَّا إذَا عَادَ مُلَبِّيًا إلَى الْمِيقَاتِ الْمَشْرُوعِ لَهُ كَمَا فِي اللُّبَابِ وَغَيْرِهِ۔” (رد المحتار مع الدر ج۴ ص۴٨۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٦/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٧/اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات