بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1156 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اگر شوہر سید ہو اور بیوی غیر سید ہو تو اولاد سید کہلائے یا غیر سید ؟
الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں اولاد سید ہی کہلائے گا کیونکہ نسب باپ کی طرف منسوب ہوتا فلہذا اگر والد سید ہو اور ماں غیر سید تو اولاد سید ہی کہلائے گی بصورت دیگر اگر ماں سیدہ ہو اور باپ غیر سید تو پھر اولاد بھی غیرِ سید ہی کہلائے گی- (تفسیر صراط الجنان میں) کہ بچے کا نسب باپ کی طرف شمار کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ’’مَوْلُوْدٌ‘‘ یعنی ’’بچے ‘‘کو ’’لَهٗ‘‘یعنی مذکر کی ضمیر کی طرف منسوب کرکے بیان فرمایا، لہٰذا اگر باپ سید ہو اور ماں غیر سیدہو تو بچہ سید ہے اور اگر باپ غیر سید اور ماں سیدانی ہو تو بچہ غیر سید ہی شمار ہوگا۔ (تفسیر صراط الجنان سورۃ البقرہ تحت آیت 233) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبـــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری متخصص فی الفقہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ