دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2351
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
اگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,827
سوال (Question):
اگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اگر سنیوں کی مسجد دور ہو تو بد عقیدوں کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــ سنی حضرات اپنی مسجد خود قائم کریں اگر اتنی وسعت نہ ہو تو کسی سنی کے گھر میں جہاں وسعت وہیں جماعت قائم کریں اور غیروں کی مسجد میں ہرگز نہ جائیں ۔ کہ ان کی مسجد میں ہماری نماز صحیح نہیں ہوتی ہے چونکہ علمائے حرمین شریف نے متفقہ طور پر ان پر کفر کا فتوی دیا ہے کہ یہ دیوبندی وہابی غیر مقلد حضرات اپنے عقائد کی وجہ سے کافر ہیں ۔ لہذا ان کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوگی ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat