دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2019
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,478
سوال (Question):
اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی لڑکی سے کرنا کیسا ہے؟
سوال : علمائے کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی شادی پہلے زید کے ساتھ ہوئی تھی بعد میں زید نے ہندہ کو طلاق دے دیا اور زید نے اپنی دوسری شادی کرلی اور ہندہ نے بکر کے ساتھ نکاح کر لیا. اب بکر سے لڑکی پیدا ہوئی زید نے طلاق دینے کے بعد جب دوسری شادی کی تو اسے لڑکا پیدا ہوا اب ایسی حالت میں کیا ہندہ اپنی لڑکی کی شادی زید کے لڑکا ساتھ کر سکتی ہے یا نہیں؟ اور لڑکی لڑکا دونوں راضی ہیں اور دونوں کے ایمان و اعمال برباد ہونے کا خطرہ ہے ایسی حالت میں شریعت کا کیا حکم ہے مع حوالہ تحریر فرمائیں عین نوازش ہوگی. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہندہ کی لڑکی کی شادی زید کے لڑکے کے ساتھ کرنا جائز ہے جبکہ رضاعت وغیرہ کوئی دوسری چیز مانع نکاح نہ ہو کیونکہ زید کے مطلقہ ہندہ کی وہ اولاد جو زید سے نہیں بلکہ کسی دوسرے شوہر سے ہے اس کا نکاح زید کی دوسری بیوی کی اولاد سے کرنے میں شرعاً کوئی خرابی نہیں ہے. فتاویٰ عالمگیری میں ہے ” الاخ لاب اذا کانت لہ اخت من امہ یحل لاخیہ من ابیہ ان یتزوجھا کذا فی الکافی ” (جلد ١ صفحہ ٣٤٣ کتاب الرضاع) اسی طرح فتاوی فیض الرسول جلد 1 صفحہ 571 پر بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat