بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2459 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اپنی بیوی کو بیٹا کہنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟
سوال : زید نے اپنی بیوی کو محبت میں بیٹا کہ دیا ۔ بیوی کہتی ہے کہ میں اب آپ کی بیوی نہ رہی ، تو کیا یہ لفظ بول دینے سے طلاق پڑگئی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا پیار و محبت میں بھی نہیں کہنا چاہیے ، لیکن بھولے سے یا قصدا اگر کسی نے اپنی بیوی کو ” بیٹا” کہ دیا تو نکاح پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ خیال رکھیں ، ایسا لفظ نہیں بولنا چاہیے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ