بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-25 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جی ہاں، اصولِ شرع کے مطابق انسان اپنے اصول (والدین، دادا دادی) اور فروع (اولاد، پوتے پوتیاں) اور میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ ان کے علاوہ دیگر مستحق رشتہ داروں (جیسے بھائی، بہن، چچا، خالہ) کو زکوٰۃ دینا بالکل جائز ہے، بلکہ غریب رشتہ دار کو دینے میں دوہرا اجر ہے (ایک زکوٰۃ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا)۔ بہن کو بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ