لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

ایک عورت بتاتی ہے کہ میرے اندر اولیاء اللہ کی سواری آتی ہے یا حاضری آتی ہے اور کئی مرد اس عورت کے ہاتھ بھی چومتے ہیں اور اپنی تکلیف بھی بتاتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ عورت غلط کہتی ہے ، اولیاء اللہ کی سواری مرد ،عورت کسی پر نہیں آتی ہے ۔ اور خاص کر ان کی سواری عورتوں پر شرعاً بہت بعید ہے ، کیونکہ وہ حضرات اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تو ان پر سوار کیوں کر ہو سکتے ہیں، یا تو وہ عورت خود جھوٹ بول رہی ہے ، یا اس پر شیطان کی سواری آتی ہے اور وہ جھوٹ بول کر اولیاء اللہ کو بد نام کرتی ہے ۔ مردوں پر اس عورت کے ہاتھ پکڑنا، چومنا حرام ہے ۔ اور اس کے پاس علاج کے لیے جانا ممنوع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات