بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2213 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی
ایک عورت بتاتی ہے کہ میرے اندر اولیاء اللہ کی سواری آتی ہے یا حاضری آتی ہے اور کئی مرد اس عورت کے ہاتھ بھی چومتے ہیں اور اپنی تکلیف بھی بتاتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ عورت غلط کہتی ہے ، اولیاء اللہ کی سواری مرد ،عورت کسی پر نہیں آتی ہے ۔ اور خاص کر ان کی سواری عورتوں پر شرعاً بہت بعید ہے ، کیونکہ وہ حضرات اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تو ان پر سوار کیوں کر ہو سکتے ہیں، یا تو وہ عورت خود جھوٹ بول رہی ہے ، یا اس پر شیطان کی سواری آتی ہے اور وہ جھوٹ بول کر اولیاء اللہ کو بد نام کرتی ہے ۔ مردوں پر اس عورت کے ہاتھ پکڑنا، چومنا حرام ہے ۔ اور اس کے پاس علاج کے لیے جانا ممنوع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ