دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2478
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,418
سوال (Question):
انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
انسان کا گوشت کھانا کیوں حرام ہے ؟
سوال : کیا کسی مجبوری میں انسان کا گوشت کھانا جائز ہے؟ اور بکرے کے گوشت کو پوست کے ساتھ کھانا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ آدمی کا گوشت کھانا سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔ آدمی اپنا گوشت نہ کھا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کو کھلا سکتا ہے ۔ یہاں تک کہ فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ کسی آدمی کی بھوک کی وجہ سے جان جا رہی ہو اور وہ جانتا ہے کہ اپنے بدن سے ہم نے ایک یا دو بوٹی کھا لی تو ہماری جان بچ جائے گی تو بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ خود اپنی جان بچانے کے لیے بھی ایسے مجبور اور بھوکے آدمی کو اپنے بدن سے گوشت کاٹ کر کھانے کی اجازت نہیں ۔ جب جان بچانے کے لیے سخت مجبوری اور بھوک کے عالم میں اپنے بدن سے گوشت کھانے کی اجازت نہیں تو پھر دوسرے کے بدن کے گوشت کو کھانا کیسے جائز ہوگا یہ سخت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔ رہ گیا مسئلہ بکرے کی کھال کھانے کا تو عام طور سے لوگ صرف گوشت کھاتے ہیں،اگر کسی آدمی کی خواہش یہی ہے کہ وہ اس کی کھال بھی کھائے تو اس کو بھون کر کھا سکتا ہے لیکن یہ سلیم طبیعتوں کے خلاف ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat