صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #402 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ادھار بیچنے پر نقد سے زیادہ قیمت وصول کرنا

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 9,815

سوال (Question):

ایک موبائل نقد 20 ہزار کا ہے لیکن قسطوں پر (ادھار) 25 ہزار کا بیچا جاتا ہے، کیا یہ سود ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قسطوں پر یا ادھار بیچنے کی صورت میں نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت مقرر کرنا جائز ہے، یہ سود نہیں بلکہ تجارت ہے۔ شرط یہ ہے کہ سودا طے کرتے وقت کوئی ایک قیمت (نقد والی یا ادھار والی) فائنل کر لی جائے اور بعد میں تاخیر پر کوئی اضافی جرمانہ (Penalty) نہ لگایا جائے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat