دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #594
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
امام کے پیچھے قرآت کرنا کیسا ہے کیا سری نماز میں بھی قراءت نہیں کر سکتے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,200
سوال (Question):
امام کے پیچھے قرآت کرنا کیسا ہے کیا سری نماز میں بھی قراءت نہیں کر سکتے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام کے پیچھے قراءت کرنا کیسا ہے کیا سری نماز میں بھی قراءت نہیں کر سکتے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ امام کے پیچھے قرآت کرنا کیسا ہے کیا سری نماز میں بھی قراءت نہیں کر سکتے ؟الجواب
امام کے پیچھے مقتدی کسی بھی نماز میں قرأت نہیں کرے گا مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مذہب حنفیہ دربارہ قرأت مقتدی عدم اباحت و کراہت تحریمیہ ہے۔امام کے پیچھے مقتدی کا قرأت کرنا جائز نہیں کیونکہ امام کی قرأت کے وقت اسے خاموشی ضروری ہے,مقتدی امام کے پیچھے قرأت نہیں کریگا۔جیسا کہ علامہ حسن عمار بن عمر شرنبلالی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:”اورمقتدی کو کسی نماز میں قرأت جائز نہیں،نہ فاتحہ،نہ آیت،نہ آہستہ کی نماز میں،نہ جہر کی نماز میں۔امام کی قراءت مقتدی کے لئے بھی کافی ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ وارکانہا ص51) واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی محمد کامران عطاری مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat