لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

امام کو نوکر کہنا کیسا ہے / امام کو نوکر کہنے والے پر کیا حکم ہے ؟

سوال : زید یہ کہتا ہے کہ ہم امام کو پگار دیتے ہیں ہم اس کو نوکر ہی کہیں گے کیا زید کا کہنا درست ہے اور کہنے والے پر کیا حکم ہے؟ (٢) امام کی برائی بیان کرنے والے اسی امام کے پیچھے نماز پڑھیں تو کیا ان کی نماز ہو جائے گی؟ (٣) گھڑی کی زنجیر سونے چاندی یا دھاتوں کی بنی ہوئی پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ (١) زید کا کہنا درست نہیں اس لیے کہ جیسے ماں باپ کی بیوی ضرور ہے مگر اسے اس لفظ کے ساتھ یاد کرنا ماں کی توہین ہے. پگار لینے والا ضرور نوکر ہے مگر تنخواہ دار امام کو نوکر کہنا اس کی توہین ہے. لہذا زید پر لازم ہے کہ امام سے معافی مانگے اور آئندہ اس کے بارے میں اس لفظ کے بولنے سے احتراز کرے. (٢) اگر امام فاسق معلن ہے اس لیے اس کی برائی بیان کرتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں اور ایسے امام کے پیچھے کسی کو نماز پڑھنا جائز نہیں. اور اگر فاسق معلن نہیں ہے تو برائی کرنے والا سخت گنہگار حق العباد میں گرفتار مگر اس کی نماز اس کے پیچھے ہو جائے گی .واللہ تعالی اعلم ۔ (٣) گھڑی سونے چاندی کی زنجیر لگی ہوئی مرد کو پہننا حرام اور دوسری دھاتوں کی ممنوع ہے ان کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے. ھکذا قال الامام احمد رضا البریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان ۔ واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 272

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات