لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

امام مسجد کا کسی ضرورت سے پیشگی تنخواہ لینا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

امام مسجد کا کسی ضرورت سے پیشگی تنخواہ لینا کیسا ہے ؟

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ عرض ہے کہ امام مسجد کا کسی ضرورت سے پیشگی تنخواہ لینا کیسا ہے ؟ مدلل جواب عطا کریں تاکہ اراکین جماعت کو دکھا کر مطمئن کیا جا سکے ۔ ٢۔غیر مسلموں کو ان کے تہوار مثلا ہولی دیوالی کی مبارکبادی دینا بذریعہ بینر یا پوسٹ یا بالمشافہ کیسا ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا ۔ وعليكم السلام ورحمة الله تعالي وبركاته الجواب بعون الملک الوهاب ١) اگر وہاں پیشگی تنخواہ لینے دینے کارواج ہو یا واقف کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں ۔ اعلی حضرت عظیم البرکت رضي الله تعالي عنہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحرير فرماتے ہيں:”روا نہیں مگر جہاں اجازت واقف یا تعامل قدیم ہو” لانہ یحمل علی المعھود من عند الواقف”اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج: ١٦ ص:٥٧١ کتاب الوقف) ۲) ہندؤں کے تہوار ہولی،دیوالی وغیرہ کی مبارک بادی دینا خواہ بذریعہ بینر ہو یا پوسٹ یا بالمشافہ حرام حرام اشد حرام ہے بلکہ بحکم فقہاء کفر ہے ۔ غمز العیون و البصائر میں ہے : "اتفق مشائخنا ان من ری امر الکفار حسنا فقد کفر” (ج: ١ ص : ۲۹٥ باب السیر والردۃ مکتبہ: ادارۃ القرآن کراچی) سیدی اعلی حضرت مجدد دین و ملت رضي الله تعالي عنه تحرير فرماتے هيں: "ان کے دیوتاؤں اور پیشواؤں اور مذھبی جذبات کا اعزاز درکنار جو ان کےکسی فعل کی تحسین ہی کرے باتفاق ائمہ کافر ہے” (فتاوی رضویہ مترجم ج: ١٤ ص: ٦۸١) فتاوی علیمیہ میں ہے : "کفار کے مذہبی تہواروں میں شریک ہونا ، مبارک باد دینا سب حرام حرام اشد حرام بلکہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے”ملخصا اھ (ج : ۲ ص: ۲۹۹ کتاب السیر) کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات