صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2386 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

امام سنی اور مقتدی سارے وہابی ہوں تو جماعت سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 4,436

سوال (Question):

امام سنی اور مقتدی سارے وہابی ہوں تو جماعت سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

امام سنی اور مقتدی سارے وہابی ہوں تو جماعت سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سوال :کیا کوئی ایسی مسجد جو سنی کی ہو اور امام صاحب بھی سنی ہوں لیکن پیچھے نماز پڑھنے والے سارے مقتدی وہابی، دیوبندی ہوں تو کیا جماعت سے نماز ہوجائے گی جیسا کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگا ہے. تو امام مسلمان باقی سب کا فر مقتدی تو ایسے میں کیا کرنا چاہیے جماعت قائم کرنا چاہیے یا پھر اکیلے نماز پڑھ لے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ امام کی نماز صحیح ہے اور جماعت والوں کی نماز نا معتبر آگے ان کی مرضی. امام کی اقتدا کی نیت کریں یا نہ کریں. ہاں امام ان کی امامت کی نیت نہ کرے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat