بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1897 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
امام دعائے قنوت چھوڑ کر رکوع میں چلا گیا مقتدی نے لقمہ دیا امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور سجدہ سہو کیا تو؟
سوال : جماعت کی وتر میں امام نے دعائے قنوت بھول کر چھوڑ دی اور رکوع میں چلا گیا اور اس کے بعد مقتدی نے لقمہ دیا تو امام نے لوٹ کر دعائے قنوت پڑھی اور اخیر میں سجدہ سہو کیا تو اس نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ مسئلہ یہ ہے کہ اگر امام دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا جائے تو اسے قنوت کی طرف پلٹنا درست نہیں بلکہ حکم یہ ہے کہ آخر میں سجدہ سہو کرے. فتاوی قاضیخان مع عالمگیری جلد اول صفحہ 121 میں ہے ” لو ترک القنوت فذکر فی القعدۃ او بعد ما قام من الرکوع لا یقنت وعلیہ السھو ” ١ھ. لہذا صورت مسئولہ میں مقتدی کے غلط لقمہ دیتے ہی اس کی نماز فاسد ہوگئ اور وہ نماز سے باہر ہوگیا اب امام نے ایک ایسے شخص کا لقمہ لیا جو نماز سے باہر ہے تو اس کی نماز فاسد ہوگئ اور اس سبب سے باقی مقتدیوں کی بھی نماز جاتی رہی. اس لئے کہ اس پلٹنے کو جائز کوئی نہیں بتاتا تو جس نے امام کو اس ناجائز پلٹنے کے لیے لقمہ دیا اس کی نماز فاسد ہوئی اور امام مقتدی کے پلٹانے سے پلٹا اور وہ نماز سے باہر تھا تو خود اس کی نماز بھی جاتی رہی اور اس سبب سے سب کی نماز گئی. ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ٦٤٨ ہے ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد اشتیاق احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ