بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1622 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نماز ہوگی یا نہیں؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں ہم نےسناہےکہ امام اگر امامت کی نیت نہ کرے تو نمازنہیں ہوگی اس کی کیاحقیقت ہے؟ سائل محمد وقاص کالاباغ پاکستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب (مذکورہ صورت میں ایساہرگزنہیں ہے،امام اگرتنہاء نماز پڑھنے والے کی طرح صرف اپنی نماز کی نیت بھی کرلے تو اس کی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجائے گی، امام کے لئے اپنے مقتدیوں کی نیت کرنالازم نہیں ہےہاں البتہ بہتر یہ ہے کہ امام امامت کی نیت کرے.. فتاویٰ عالمگیری میں ہے الامام ینوی ماینوی المنفردولایحتاج الی نیۃ الامامۃ حتی لونوی ان لایوم فلانافجاء فلان واقتدی به جاز، ھکذفی فتاویٰ قاضی خان ، یعنی امام وہی نیت کرےجواکیلےنمازپڑھنےوالےکی ہوتی ہےاسےامامت کی نیت کی حاجت نہیں ہےحتی کہ اگرکسی نےیہ نیت کرلی کہ میں فلاں کاامام نہیں ہوں، پھراس شخص نےاس کی اقتداکی نیت کی تواس کی نمازبھی ہوجائےگی : فتاویٰ عالمگیری جلد1صفحہ66*) انوار الفتاویٰ جلد1صفحہ215*) بہار شریعت میں ہے مقتدی کو اقتدا کی نیت بھی ضروری ہے اور امام کو نیت اِمامت مقتدی کی نماز صحیح ہونے کے لیے ضروری نہیں ، یہاں تک کہ اگر امام نے یہ قصد کرلیا کہ میں فلاں کا امام نہیں ہوں اور اس نے اس کی اقتدا کی نماز ہوگئی، مگر امام نے اِمامت کی نیت نہ کی تو ثوابِ جماعت نہ پائے گا اور ثوابِ جماعت حاصل ہونے کے لیے مقتدی کی شرکت سے پیشتر نیت کر لینا ضروری نہیں، بلکہ وقت شرکت بھی نیت کر سکتا ہے: بہارشریعت حصہ3 صفحہ495 مکتبۃ المدینہ کراچی مزید تحریر فرماتے ہیں : "ایک صورت میں امام کو نیتِ اِمامت بالاتفاق ضروری ہے کہ مقتدی عورت ہو اور وہ کسی مرد کے محاذی (برابر) کھڑی ہو جائے اور وہ نماز، نمازِ جنازہ نہ ہو تو اس صورت میں اگر امام نے اِمامت زناں/عورتوں کی امامت) کی نیت نہ کی، تو اس عورت کی نماز نہ ہوئی: (درمختار) اور امام کی یہ نیت شروع نماز کے وقت درکار ہے، بعد کو اگر نیت کر بھی لے، صحتِ اقتدائے زن کے لیے کافی نہیں: *(ردالمحتار)* بہارشریعت حصہ3 صفحہ 495مکتبۃ المدینہ کراچی *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی عفی عنہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ