لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

امامت کا حقدار کون ہے حافظ یا عالم؟ / امامت کے مسائل

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

امامت کا حقدار کون ہے حافظ یا عالم؟

سوال : مفتیان کرام سے سوال ہے کہ حافظ اور مولانا میں کس کا مرتبہ زیادہ ہے ہمارے طرف حافظ کو اہمیت دیتے ہیں عالم کو نہیں حافظ کو امامت کا حقدار سمجھتے ہیں عالم کو نہیں رہنمائی فرمائیں ۔ سائل : محمد سعید اختر یوپی الجوابـــــــــــــــــــــ اگر عالم دین قرآن پاک کو صحیح پڑھ لیتا ہے اور تقویٰ و طہارت میں حافظ سے بڑھ کر ہے تو عالم دین کی امامت حافظ سے افضل ہے جیسا کہ در المختار مع رد المحتار میں ہے کہ ” ( و الأحق بالإمامة ) تقدیمًا بل نصبًا مجمع الانھر ( الأعلم بأحکام الصلاة ) فقط صحة و فسادًا بشرط اجتنابه للفواحش الظاھرة . ( حسن تلاوة ) و تجويدا ( للقراءة ثم الاورع ) اى الاكثر اتقاء للشبهات و التقوى : اتقاء المحرمات ” اھ ( در مختار ج ٢ ص ٢٧٤ کتاب الصلاۃ ، باب الامامة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے ” الأولی بالامامة أعلمهم بأحکام الصلوۃ هكذا فى المضمرات ، هذا إذا علم من القراءة قدر ما تقوم به سنة القراءة هكذا فى التبيين۔ و يجتنب الفواحش الظاهرة و ان كان غير اورع منه كذا فى المحيط و إن کا ن متبحرا فی علم الصلوۃ لکن لم یکن له حظ فی غیرہ من العلوم فهو أولی ” اھ ( فتاوی عالمگیری ج ١ ص ٩٢ کتاب الصلاۃ ، باب الامامة ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور بہار شریعت میں ہے کہ ” سب سے زیادہ مستحق امامت وہ شخص ہے جو نماز و طہارت کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو ، اگر چہ باقی علوم میں پوری دستگاہ ( مہارت ) نہ رکھتا ہو ، بشرطیکہ اتنا قرآن یاد ہو کہ بطور مسنون پڑھے ” اھ ( بہار شریعت ج ١ ص ٥٦٧ امامت کا بیان ) مذکورہ بیان سے معلوم ہوا کہ اگر عالم بقدر ضرورت مطابق تجوید قرآن اچھا پڑھ لیتا ہے تو عالم کی امامت افضل ہے ۔ کیونکہ عالم نماز و طہارت اور قرآن کے معانی و مفہوم کے بارے میں حافظ سے زیادہ جانکاری رکھتا ہے لہذا عالم علم صلاحیت کی بناء پر حافظ سے مرتبہ میں زیادہ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات