بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2548 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اللہ تعالی کو اوپر والا بولنا کیسا ہے ؟
اس جملہ سے جہت کا ثبوت ہوتا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی یہ جملہ بول کر بلند و بالا اور برتری کے معنی میں استعمال کرے تو اس کی تاویل سنی جائے گی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ خدائے تعالی کی ذات کے لئے اوپر والا بولنا کفر ہے کہ اس لفظ سے اس کے لئے جہت کا ثبوت ہوتا ہے اور اس کی ذات جہت سے پاک ہے ۔ جیسا کہ حضرت علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اذا لم یکن فی مکان لم یکن فی جھۃ لا علو ولا سفل ولا غیرھما ۔ (شرح عقائد نسفی صفحہ 23) اور حضرت علامہ مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : یکفر بوصفہ تعالیٰ بالفوق او بالتحت ۔ (بحر الرائق جلد پنجم ص 120) اگر کوئی شخص یہ جملہ بلندی اور برتری کے معنی میں استعمال کرے تو قائل پر حکم کفر نہ کریں گے مگر اس قائل کو برا ہی کہیں گے اور قائل کو اس سے روکیں گے ۔ وھو سبحانہ تعالی اعلم کتبــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی 25 جمادی الاخری 1400 ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ