لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟

سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہنا صحیح ہے یا فرماتا ہے؟ المستفتی:-حافظ وقاری محمد اعجاز رضا مدرس دار العلوم نظامیہ نیروجال وامام وخطیب جامع مسجد فتحپور راجوری جموں وکشمیر الجواب اللهم هداية الحق والصواب اللہ رب العزت وحده لاشریك له ہے اس کے لیے واحد کا صیغہ(اللہ تعالی فرماتا ہے) استعمال کرنا ہی زیادہ مناسب اور بہتر ہے لیکن اگر کوئی تعظیما جمع کا صیغہ(اللہ تعالی فرماتےہیں) استعمال کرتا ہے تو یہ بھی درست ہے البتہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے ۔ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ”تعظیماجمع کا لفظ خدا کی شان میں بولنا جائز ہے یا نہیں،جیسے کہ اللہ جل شانہ یوں فرماتے ہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ جوابا فرماتے ہیں”حرج نہیں اور بہتر صیغہ واحد ہے کہ واحد احد کے لیے وہی انسب ہے،قرآن عظیم میں ایک جگہ رب عزوجل سے خطاب جمع ہے (رب ارجعون) وہ بھی زبان کافر سےہے”(ج ۵ ص ۱۳۷/ناشر:امام احمد رضا اکیڈمی بمبئ) امام اہلسنت علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں "اللہ عزوجل کو ضمائر مفرد سے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد،احد،فرد،وتر ہے اور تعظیما ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں،اس کی نظیر قرآن عظیم میں ضمائر متکلم ہیں تو صدہا جگہ ہے "انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون” بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اسکے نگہبان ہیں اور ضمائر خطاب میں صرف ایک جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا”قال رب ارجعون لعلى أعمل صالحا”(اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں) اس میں علما نے تاویل فرمادی کہ یہ”ارجع”کی جمع باعتبار تکرار ہے یعنی "ارجع ارجع ارجع” ہاں ضمائر غیبت میں بے ذکر مرجع صیغ جمع فارسی اور اردو میں بکثرت بلا نکیر رائج ہیں بہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ”اللہ تعالی فرماتا ہے”مگر اس میں(یعنی اللہ عزوجل فرماتے ہیں جملہ میں)کفر وشرک کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتا، نہ گناہ ہی کہا جائے گا بلکہ خلاف اولی ہے”( فتاوی رضویہ مترجم ج۱۴ ص ۶۴۸ تا ۶۴۹/رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان) اور الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں ہے "آیت کریمہ: انا فتحنا لك فتحا مبينا-سورہ فتح:۱)بے شک ہم نے تمہارے لئے روشن فتح فرمادی-یعنی انى فتحت لك-(کیونکہ اللہ واحد ہے-ضمیر جمع محض تعظیماہے-)”( ص۶۷/باھتمام مجلس برکات الجامعة الاشرفيه مبارک پور ضلع اعظم گڑھ،یوپی) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات