بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1946 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
التحیات سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے
سوال : نورانی تعلیم حصہ دوم صفحہ 19 میں بحوالہ فتاویٰ رضویہ ہے کہ التحیات کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھنا چاہیے یہ نہی تحریمی ہے یا تنزیہی؟ بینوا و توجروا. الجوابــــــــــــــــــــــ التحیات کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کہ یہ آیت قرآنی ہے جو قیام کے سوا کسی اور رکن میں پڑھنا جائز نہیں. فتاوی رضویہ میں ہے قیام کے سوا رکوع و سجود قعود کسی جگہ بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیت قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے علاوہ اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے. ١ھ (صفحہ 134 جلد 3) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد صدیق عالم منظوری
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ