لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اسلام میں حد بلوغت کب سے شروع ہوتی ہے؟ کیا ١٧ سال کا لڑکا جو پانچوں وقت نماز کا پابند ہو نماز کی شرائط بھی جانتا ہو امامت کرواسکتا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اسلام میں حد بلوغت کب سے شروع ہوتی ہے؟ کیا ١٧ سال کا لڑکا جو پانچوں وقت نماز کا پابند ہو نماز کی شرائط بھی جانتا ہو امامت کرواسکتا ہے؟

سوال: اسلام میں حد بلوغت کہاں سے شروع ہوتی ہے ۔کیا 17 سال کا لڑکا جو پانچویں وقت نماز کا پابند ہو نماز کی شرائط بھی جانتا ہو جماعت کروا سکتا ہے قران وحدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی فرمائیں،الله سبحانہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین المستفتی:۔ ظہور وانی امام وخطیب جامع مسجد غوثیہ ڈنہ بھٹیاں  الجواب بعون الملك الوهاب: اسلامی سالوں کے اعتبار سے لڑکے کے اندر اگر بارہ سال کے بعد علامات بلوغ (یعنی: احتلام، انزال، یا اس کی وطی سے استقرار حمل) میں سے کوئی ثابت ہو تو وہ بالغ ہے لیکن اگر ان میں سے کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو قمری سال کے حساب سے پندرہ سال مکمل ہونے پر اس کو بالغ مان لیا جائے گا۔ اور لڑکی کے اندر اگر نو سال بعد بلوغ کی علامات یعنی: حیض یا استقرارِحمل، انزال یا احتلام میں سے کوئی علامت پالی جائے تو اس کو بھی مانیں گے لیکن اگر ان علامات میں سے کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو وہ بھی پندرہ سال کی عمر میں شرعاً بالغ قرار پائے گی۔حاصل یہ ہے کہ بلوغ کی کوئی علامت ظاھر نہ ہونے پر پندرہ سال کی عمر ہوجانے پر شرعی اعتبار سے لڑکا اور لڑکی بالغ ہوجاتے ہیں۔ قانون شریعت میں ہے : "آدمی چاہے عورت ہو یا مرد جب سے بالغ ہوتا ہے اسی وقت سے اس پر نماز روزہ فرض ہو جاتا ہے عورت کم سے کم نو برس میں زیادہ سے زیادہ پندرہ برس میں بالغ ہو جاتی ہے اور مرد کم سے کم بارہ برس میں اور زیادہ سے زیادہ پندرہ برس میں بالغ ہو جاتا ہے پندرہ برس کی عمر والے کو چاہے مرد ہو یا عورت شرع میں بالغ مانا جاتا ہے چاہے بالغ ہونے کی نشانیاں پائی جاتی ہوں یا نہ پائی جاتی ہوں”(ص ١٤١) لہذا صورت مسؤلہ میں ١٧ سال کا لڑکا امامت کرسکتا ہے۔جب کہ کوئی اور وجہ مانعِ صحتِ امامت نہ ہو۔والله تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر.٣/محرم الحرام ١٤٤٥ھ مطابق ٢٢/ جولائی ٢٠٢٣ء الجواب صحيح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات