بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1927 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
استنجاء اور پیشاب کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
سوال : زید کہتا ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی اور بکر کہتا ہے کہ ڈھیلا لینا ضروری نہیں بلکہ جسے بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو اس کے لیے ڈھیلا لینا ضروری ہے ۔ اور زید ایسے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ہے جو امام ڈھیلا استعمال نہیں کرتا اگرچہ وہ امام ڈھیلا لینے کا منکر بھی نہ ہو ۔ تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو زید پر شرعی حکم کیا ہے جو کہ جماعت کا تارک ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ استنجا کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ بعد پیشاب پاک مٹی، کنکریا پھٹے پرانے کپڑے سے پیشاب سکھائے پھر پانی سے دھو ڈالے۔ لیکن اگر کوئی صرف پانی ہی استعمال کرے تو بھی درست ہے اس میں کوئی حرج نہیں .اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا چوں چرا جائز ہے کہ ڈھیلے سے استنجا سنت ہے فرض واجب نہیں. اور ڈھیلے کے استعمال کے بعد پانی کا استعمال افضل ہے جیسا کہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ 126 پر ہے ” الاستنجاء بنحو حجر سنۃ ١ھ ملخصا ” اور اسی میں صفحہ ١٢٧ پر ہے ” وغسلہ بعد الحجر ادب ” البتہ اگر کسی کو بعد پیشاب قطرہ کی شکایت ہو تو اس پر استبراء کرنا یعنی ڈھیلے وغیرہ کا استعمال کرنا واجب ہے. اور زید نے جو یہ بات کہی ہے کہ جو امام بغیر ڈھیلے کے استنجاء کرتا ہے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے ہرگز صحیح نہیں ۔ اس پر توبہ و استغفار لازم ہے اس نے بغیر علم کے فتوی دیا. اور حدیث شریف میں ہے کہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں (کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) اور وہ اس بنیاد پر امام کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ کر جماعت ترک کرتا ہے تو وہ فاسق اور مردود الشہادۃ ہے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٣٨٠ پر ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی عبدالمقتدر نظامی مصبــــــــــــاحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ