بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-714 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اذان کے وقت بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسںٔلہ میں کہ اذان کے وقت بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے سـائل: محمد معاذ رضا میرگنج بریلی شریف بسـم اللـہ الرحـمٰن الرحـیمالجــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب
بوقت اذان بیت الخلاء جانا بہتر نہی۔اذان ہوجائے اُسکے بعد جانا چاہیے تاکہ اذان کا جواب دینے سے محروم نہ ہو جائیں ،کیونکہ اذان کا جواب دینا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ ہاں شدید حاجت ہوتو جا سکتے ہیں، جیسا کہ فیضانِ اذان میں ہے کہ: اذان کے دوران استنجا خانے جانا بہتر نہیں کیونکہ وہاں اذان کا جواب نہ دے سکے گا اور یہ بہت بڑے ثواب سے محرومی ہے البتہ شدید حاجت ہو یا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو چلا جائے (فیضانِ آذان صفحہ (۱۳) المکتبۃ المدینہ کراچی) واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب کتبـــــہ:محمد ارباز عالم نظــــــامی ترکپٹی کوریاں کشی نگر یوپی الھـــــــــند
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ