لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ کیوں دیا اور کیا کہا ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

 ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ دے دیا۔جانئے اس موقع پر كیا كہا؟

ٹھاکرے دونوں عہدوں سے آج اسوقت مستعفی ہوئے جب سپریم کورٹ نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی جانب سے برسراقتدار مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو کل ریاستی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے والے عمل فلور ٹیسٹ پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔

ریاست کے عوام سے جذباتی خطاب کرتے ہوئے، ٹھاکرے نے ان کی اتحادی پارٹیوں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ کابینہ نے آج اورنگ آباد کا نام بدل کر سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام دھاراشیو رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ دوپہر میں ٹھاکرے نے کابینہ کی میٹنگ کی صدارت کی اور اپنے اتحادیوں این سی پی اور کانگریس سے کہا کہ ان کی اپنی پارٹی والوں نے انہیں دھوکہ دیا جس کی وجہ سے مہاراشٹر میں موجودہ سیاسی بحران پیدا ہوا۔
ٹھاکرے نے تسلیم کیا کہ کس طرح این سی پی-کانگریس کے وزراء نے اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام تبدیل کرکے دھاراشیو رکھنے کی تجویز پر اتفاق کیا، حالانکہ یہ کافی تاخیر سے کیا گیا فیصلہ تھا۔ اپنے 31 ماہ کے قلیل مدتی دور اور 56 سالہ پارٹی کی وراثت کا مختصراً تذکرہ کرتے ہوئے ٹھاکرے نے یاد کیا کہ کتنے عام کارکن، آٹورکشا ڈرائیور، پان ڈبہ چلانے والے وغیرہ پارٹی میں آگے بڑھے، کارپوریٹر سے لے کر وزیر بن گئے۔ سب کچھ حاصل کیا، مگر اب وہی لوگ ‘ناراض’ ہیں اور جن کو کچھ نہیں ملا وہ آج بھی وفادار ہیں اور شیو سینا کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
’’میں نے انہیں (باغیوں) کو کئی بار مدعو کیا کہ وہ مجھ سے ملیں اور اپنے مسائل پر بات کریں… چاہے انہیں مجھ سے مسئلہ ہے، شیوسینا، این سی پی، کانگریس یا کچھ اور… لیکن کوئی جواب نہیں آیا‘‘۔ ٹھاکرے نے کہا کہ جو لوگ سینا اور بالا صاحب ٹھاکرے کے زور پر بڑے ہوئے ہیں، اگر وہ یہ مانتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو گرانے سے وہ "پنیا” (ثواب  حاصل کر لیں گے، تو انہیں کرنے دیں۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ کسی فلور ٹیسٹ یا اس طرح کی سیاست کا ڈرامہ نہیں چاہتے تھے، ٹھاکرے نے کہا کہ وہ قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی استعفی دے رہے ہیں۔ اسی دوران ٹھاکرے کے اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائدین بشمول ریاستی صدر چندرکانت پاٹل، قائد حزب اختلاف دیویندر فڈنویس اور دیگر نے جشن منانا شروع کردیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ کئی باغی ایم ایل ایز نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاست اب متوقع سی ایم فڈنویس کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ https://www.sadaeislam.in/blog/udho-thakrey-ne-istifa-de-dia/

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات