بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2156 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
سوال : زید آڑھت میں اپنا مال بیچنے کے لیے پہنچاتا ہے اور آڑھتدار سے کچھ رقم پیشگی لے لیتا ہے کہ مال فروخت ہونے پر حساب کر لیں گے تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ زید اگر آڑھتدار سے قرض لیتا ہے تو اس کی خوشی سے لینا جائز ہے ۔ زید آڑھت میں مال پہنچا نے کے سبب اس پر جبر نہیں کر سکتا ۔ اور اگر آڑھتدار سے اپنے مال کی قیمت پیشگی لیتا ہے اس شرط پر فروخت ہونے کے بعد حساب ہو جائے گا تو حرام ہے ۔ ھکذافی الجزءالسابع من الفتاوی الرضویہ ۔ وھوتعالی علم کتبـــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ