دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2156
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ / آڑھت کے بعض ناجائز طریقے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,624
سوال (Question):
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ / آڑھت کے بعض ناجائز طریقے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
سوال : زید آڑھت میں اپنا مال بیچنے کے لیے پہنچاتا ہے اور آڑھتدار سے کچھ رقم پیشگی لے لیتا ہے کہ مال فروخت ہونے پر حساب کر لیں گے تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ زید اگر آڑھتدار سے قرض لیتا ہے تو اس کی خوشی سے لینا جائز ہے ۔ زید آڑھت میں مال پہنچا نے کے سبب اس پر جبر نہیں کر سکتا ۔ اور اگر آڑھتدار سے اپنے مال کی قیمت پیشگی لیتا ہے اس شرط پر فروخت ہونے کے بعد حساب ہو جائے گا تو حرام ہے ۔ ھکذافی الجزءالسابع من الفتاوی الرضویہ ۔ وھوتعالی علم کتبـــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat