بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-93 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شریعت میں خون دینا اصلاً ممنوع ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کا حصہ ہے۔ لیکن موجودہ دور میں شدید ضرورت اور جان بچانے کی غرض سے ماہر ڈاکٹر کے مشورے پر خون کا عطیہ دینا بالکل جائز اور باعثِ اجر (جان بچانے کا ثواب) ہے۔ خون مسلمان کو دیا جائے یا کافر کو، دونوں صورتوں میں جائز ہے۔ خون بیچنا حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ