بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-91 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
توکل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان ظاہری اسباب کو چھوڑ دے۔ صحیح شرعی توکل یہ ہے کہ انسان مکمل محنت کرے، اسباب (جیسے دوا، علاج، روزگار کی تلاش) اختیار کرے، لیکن دل میں یقین رکھے کہ نتیجہ اور شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حدیث ہے کہ ‘پہلے اونٹ کا گھٹنہ باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو’۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ