لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

توکل کا صحیح شرعی مفہوم کیا ہے؟

کیا بیماری میں دوا نہ کھانا اور صرف اللہ پر توکل کرنا صحیح ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

توکل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان ظاہری اسباب کو چھوڑ دے۔ صحیح شرعی توکل یہ ہے کہ انسان مکمل محنت کرے، اسباب (جیسے دوا، علاج، روزگار کی تلاش) اختیار کرے، لیکن دل میں یقین رکھے کہ نتیجہ اور شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حدیث ہے کہ ‘پہلے اونٹ کا گھٹنہ باندھو، پھر اللہ پر توکل کرو’۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات