بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-87 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مروجہ پگڑی کا نظام شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ یہ ایک فرضی حق کے بدلے رقم وصول کرنا ہے۔ مالک دکان کرایہ نامے کے وقت جو اضافی نان ریفنڈایبل (Non-refundable) رقم پگڑی کے نام پر لیتا ہے وہ رشوت کے حکم میں ہے۔ البتہ اگر ایڈوانس (Security) کے طور پر ہو جو واپسی کے قابل ہو تو وہ جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ