بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-80 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورتوں کا احرام ان کے سلے ہوئے عام کپڑے ہی ہیں۔ البتہ احرام کی حالت میں عورت کے چہرے پر کوئی کپڑا یا نقاب نہیں لگنا چاہیے۔ پردہ کرنے کے لیے کیپ (Cap) یا چھجے والا نقاب استعمال کیا جاتا ہے تاکہ کپڑا لٹکتا رہے مگر چہرے کو نہ چھوئے۔ اگر کپڑا کچھ دیر چہرے کو لگ جائے تو صدقہ واجب ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ