بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-8 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شرعاً بہو کے ذمے صرف اپنے شوہر کی اطاعت اور اس کے حقوق ادا کرنا لازم ہے۔ ساس سسر کی خدمت کرنا بہو پر قانوناً یا شرعاً ‘فرض’ نہیں ہے۔ لیکن حسنِ معاشرت، اخلاق، اور شوہر کی خوشنودی کی خاطر ساس سسر کو والدین کا درجہ دے کر ان کی خدمت کرنا عظیم ثواب کا کام ہے۔ اسی طرح ساس سسر کو بھی چاہیے کہ بہو کو بیٹی سمجھیں اور اس پر ظلم یا زیادتی نہ کریں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ