بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-79 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فقہ حنفی کے مطابق زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے ‘عاقل اور بالغ’ ہونا شرط ہے۔ اس لیے نابالغ بچے کے نام پر کتنی ہی جائیداد، سونا یا کیش موجود ہو، اس پر شرعاً زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ جب بچہ بالغ ہو گا، اس وقت سے اس کی رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ