لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عورت کی شرمگاہ سے جو رطوبت بغیر خون کے نکلی ہے وہ پاک ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورت کی شرمگاہ سے جو رطوبت بغیر خون کے نکلی ہے وہ پاک ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ اگر عورت کے شرمگاہ سے واٸٹ پانی کثرت سے آۓ تو کیا حکم ہے اور اگر نورمل آۓ تو کیا غسل فرض ہوگا یا نہیں اور اگر وضو کے بعد حالت نماز میں باکثرت آۓ یا نورمل آۓ تو کیا حکم ہے بالتفصیل جواب ارسال فرماٸیں مع الدلیل مہربانی ہوگی سـائل : محمد مونس رضا واحدی پلیا کلاں یوپی انڈیا بسـم اللـہ الرحـمٰن الرحـیم

الجــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب

عورت کی اگلی شرمگاہ سے جو رطوبت جو بغیر خون کے نکلتی ہے وہ پاک ہے۔ اب چاہے قلیل مقدار میں آئے یا کثیر اس سے نہ ہی غسل فرض ہوگا اور نہ ہی وضو ٹوٹے گا۔ جیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ، عورت کے پیشاب کے مقام سے جو رطوبت نکلے پاک ہے کپڑے یا بدن پر لگے تو دھونا کچھ ضروری نہیں ہاں بہتر ہے۔ اور اسی میں ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ۔ عورت کے آگے سے جو خالص رطوبت بے آمیزش خون نکلتی ہے ناقص وضو نہی اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے۔ (بہار شریعت حصّہ دوم (۲) نجاستوں کا بیان و وضو کا بیان۔ صفحہ ۳۹۵/۳۰۴ المکتبۃ المدینہ دعوت اسلامی) مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوا کہ حالت نماز میں عورت کے اگلی مقام سے۔ سفید یعنی (وائٹ) پانی آجائے تو نہ ہی وضو ٹوٹے گا۔ اور نہ غسل فرض ہوگا۔ اور جب وضو غسل برقرار رہے گا۔ نماز بھی ہو جائے گی۔ واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب کتبـــــہ:محمد ارباز عالم نظــــــامی ترکپٹی کوریاں کشی نگر یوپی الھـــــــــند

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات