بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-713 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حالت حمل میں دو سال سے چھوٹے بچے کو دودھ پلانا کیسا ہے ؟
سوال : کیا حاملہ عورت اپنے دو سال سے چھوٹے بچے کو حمل کی حالت میں دودھ پلا سکتی ہے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔ الجواب حمل کی حالت میں بھی دو سال سے چھوٹے بچے کو دودھ پلانا جائز ہے اس میں شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ۔ ہاں اگر کوئی ماہر حکیم اور ڈاکٹر اس بارے میں ماں یا بچے کی صحت پر برے اثرات کے بارے میں بتائے تو ایسی صورت میں ان کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے نہ پلانا بہتر ہے ۔ شریعت کی طرف سے دو سال تک بچے یا بچی کو دودھ پلانے کی اجازت ہے ۔ وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ اَوْلاَدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَن يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ سورۃ البقرہ آیت ۲۳۳۔ واللہ اعلم بالصواب ۔۔ مولانا اظہر علیمی استاذ : مدرسہ قادریہ علیمیہ تلوجہ فیس ون نیو ممبئی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ