بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-671 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی کو یہ کہنا عیسائی یا ہندو ہو جاؤں کیونکہ تم کو عیسائیوں کے گرجا گھروں اور ہندوؤں کے مندروں کے احترام کا بہت خیال ہے ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ و سلم کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی کو یہ کہنا عیسائی یا ہندو ہو جاؤں کیونکہ تم کو عیسائیوں کے گرجا گھروں اور ہندوؤں کے مندروں کے احترام کا بہت خیال ہے مگر مسجدوں،قرآن شریف، علماء کے احترام کا کوئی خیال نہیں ہے کیسا؟الجواب
وعلیکم السلام و رحمة الله و بركاته اگر بطورِ مشورہ ایسی بات کہے تو فوراً خود کافر ہو جائے گا،چاہے سامنے والا ہندو یا عیسائی ہو یا نہ ہو۔ لیکن یہاں سیاقِ کلام سے ظاہر ہے کہ بطور مشورہ یہ نہیں کہا گیا بلکہ غیر مسلموں سے تعلقاتِ محبت رکھنے سے روکنے کے لیے یہ جملہ بولا گیا،لہذا بولنے والا کافر نہ ہو گا،البتہ ایسے جملے بولنے سے احتیاط ہی چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب از : مفتی محمد کامران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ