بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-661 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غیر مقلد یا وہابی ،دیوبندی کو زکوۃ دینا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میںکہ زید نے اپنی زکوۃ کی رقم ایک غیر مقلد کو دے دی بکر نے کہا کہ تمہارا روپیہ حرام موت میں گیا بکر کا یہ کہنا کیسا ہے ؟ الجواب بکر کا کہنا درست ہے ۔ بے شک غیر مقلد کو زکوۃ دینا حرام ہے اور اس کو دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوئی ۔حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کافر، مشرک ،وہابی، رافضی، قادیانی وغیرہ کو زکوۃ دینےسے زکوۃ نہیں ادا ہوگی اور ان کو زکوۃ دینا حرام ہے۔فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ نمبر 491 واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد شبیر احمد مصباحی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ