دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #648
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,105
سوال (Question):
کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟
سوال ۔۔۔۔ السلام علیکم! کیا اذان بغیر وضو کے نہیں دی جا سکتی اگر بغیر وضو کے اذان دی گئی تو کیا حکم ہے؟الجواب بعون الوہاب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔۔ دیکھیں اذان کے لئے وضو کرنا مستحب ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان دینے والے کے لئے باوضو رہنے کی ہدایت فرمائی ہے جیساکہ جامع ترمذی میں حدیث مبارک ہے : عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یؤذن الا متوضیئ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باوضو شخص ہی اذان کہے ۔ (جامع ترمذی ، ابواب الصلوٰۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاذان بغیر وضوء ، حدیث نمبر:٢٠٠) اگر کوئی شخص بغیر وضو اذان کہہ دے تو جائز ہوجاتی ہے ، اُسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جیساکہ ہدایہ میں ہے : وینبغی أن یؤذن ویقیم علی طہر فإن أذن علی غیر وضوء جاز۔(الہدایۃ، باب الاذان ) تاہم بہتر یہ ہے کہ بحالتِ وضو اذان کہی جائے کیونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کے لئے بلانا ہے ، لہذا مؤذن کو چاہئے کہ جس کارِ خیر کے لئے دعوت دے رہاہے خود بھی اس کے لئے عملی طور پر تیار رہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب – از: محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat