بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-644 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قرآن کو پھینکنے والے کا حکم ۔ از مفتی جلال الدین احمد امجدی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ہندہ قران شریف پڑھ رہی تھی شوہرکسی دوسری وجہ سے لڑنے لگا، جب دونوں میں تو تو میں میں بڑھ گئی تو ہندہ نے مارے غصے کے قران پاک پلنگ پر سے نیچے پھینک دیا ۔جس وقت قران پاک کو پھینکا اس وقت اس قدر غصے میں تھی کہ اس کے مخصوص اعضاء بھی کھلے ہوئے تھے ۔اب حضرت مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی کی کتاب اسرار الاحکام بانوار القران کے صفحہ 100 سے 101 کے جوابات کو سامنے رکھ کر ہندہ پر کیا حکم ہوگا آسان صورت میں جواب سے نوازیں ۔ جواب: اگر ہندہ نے بنیت توہین قرآن مجید کو پلنگ سے نیچے پھینکا تو یہ کفر ہے اس عورت سے توبہ اور استغفار کرایا جائے اور اس کا نکاح پھر سے پڑھایا جائے اور اگر بنیت توہین نہیں پھینکا بلکہ شوہر پر غصہ آجانے کے سبب پھینکا اورصورت حال سے ظاہر یہی ہے تو اس صورت میں تجدید نکاح ضروری نہیں مگر توبہ اور استغفار لازم ہے۔اور اسے قرآن خوانی، مساکین کو کھانا کھلانے، اور مسجد میں لوٹا اور چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے کہ یہ چیزیں توبہ کی قبولیت میں معاون ہوں گی ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔ان الحسنات یذہبن السیات ۔ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: مفتی جلال الدین احمد امجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ