صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #638 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بیوی کا اپنی مرضی سے طلاق مانگنا کیسا ہے؟ از مفتی صدام حسین فیضی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,529

سوال (Question):

بیوی کا اپنی مرضی سے طلاق مانگنا کیسا ہے؟ از مفتی صدام حسین فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بیوی کا اپنی مرضی سے طلاق مانگنا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ کیافرماتے ہیں علماۓ کرام مفتیان عظام مسٸلہ ذیل کےبارے میں کہ جناب محمد زبیر صاحب کی شادی ہوۓ تقریباً بارہ سال گزر گٸے انکی اہلیہ اب اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہتی ہیں انکا کہنا ھیکہ میرا گزر بسر اب میرے شوھر کے ساتھ نہیں ہو سکتاہے میں بغیر کسی زور دباؤ کے ہوش و حواس میں اپنی مرضی سے طلاق لینا چاہتی ہوں مجھے کسی قسم کا کوئی گزارہ بھتہ بھی نہیں چاہئے ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔المستفتی:(مولانا) رمضان علی فیضی علاٶالدین پورگلرہواضلع گونڈہ یوپی بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

زبیر کی بیوی کا طلاق طلب کرنا اگر بغیر ضرورت شرعیہ ہو تو حرام ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ” أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ “. (سنن ابی داؤد ، کتاب الطلاق باب فی الخلع رقم: ٢٢٢٦) یعنی جو عورت بغیر عذر معقول کے اپنے شوہر سے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: “عورت کا طلاق طلب کرنا اگر بغیر ضرورت شرعیہ ہو تو حرام ہے” اھ (ج٢، ص١٦٤، مطبوعہ دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی) اور بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا ممنوع ہے اور اللہ عزوجل کو ناپسند ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ” أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ “. (سنن ابي داؤد، كتاب الطلاق ، باب كراهية الطلاق، رقم: ٢١٧٨) یعنی اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے۔ فتح القدیر میں ہے: “والاصح حظره الا لحاجة للادلة المذكورة ، ويحمل لفظ المباح علي ما ابيح في بعض الاوقات اعني اوقات تحقق الحاجة المبيحة ” اھ (ج٣، ص٤٤٦، کتاب الطلاق، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان) یعنی اصح یہ ہے کہ بغیر حاجت طلاق ممنوع ہے کہ دلائل سے یہی ثابت ہے اور مباح سے مراد یہ کہ بعض وقت مباح ہے، یعنی جس وقت حاجت پائی جائے۔ فتاوی امجدیہ میں ہے: “بغیر کسی وجہ شرعی کے طلاق دینا ممنوع ہے اور اللّٰہ عزوجل کو ناپسند ہے” اھ (ج٢، ص١٦٤، کتاب الطلاق، مطبوعہ دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ٢٠صفر المظفر ١٤٤٥ھ مطابق ٧ستمبر ٢٠٢٣ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat