دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #627
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,808
سوال (Question):
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ذید نے ھندہ کو طلاق دی تو عورت کو عدت کتنی گزارنی ھوگی جبکہ طلاق شدہ عورت پانچ سال سے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہے؟ اور یہی عورت طلاق کے بعد ایک یا دو مہینے کے اندر دوسری شادی کرتی ہے تو کر سکتی ہے؟الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طلاق سے پہلے چاہے جتنا عرصہ عورت شوہر سے جدا رہی ہو اس کا اعتبار نہیں، طلاق کے بعد عدت کا شمار ہوتا ہے،اور مدخولہ حائضہ غیر حاملہ کی عدت تین ماہواریاں ہیں چاہے وہ دو ماہ میں آئیں یا دو سال میں، تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے عورت کا نکاح کرنا فاسد اور اشد حرام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی کامران عطاری مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat