بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-607 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اللہ کو بھگوان کہنا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ کو بھگوان یا ایشور کہنا کیسا ہے اس قسم کے الفاظ جو ہندو اپنے معبود باطل کے لیۓ بولتے ہیں اگر کوئی مسلمان اللہ کے لیۓ ایسے الفاظ بولے تو اس پر کیا حکم ہے ؟ بینوا و توجروا۔الجواب ھو الھادی الی الصواب
اللہ کریم کو اللہ کے ذات و صفات والے نام سے پکارا جائے۔ اللہ کو بھگوان کہنا کفر ہے۔ ایشور کہنا ناجائز ۔ ۔ایک ایسے ہی سوال کے جواب میں مفتی شریف الحق رحمۃ اللہ علیہ نے فتاوی شارح بخاری جلد 1 صفحہ نمبر 246 پر۔ فرماتے ہیں ۔ اللہ عزوجل کو بھگوان کہنا کفر ہے۔کہنے والے پر توبہ تجدید ایمان نکاح لازم ہے۔ایشور کہنا بھی جائز نہیں یہ ہندوں کا شعار ہے۔ ہندوں نے بہت سے الفاظ خاص کئے ہیں ان میں کچھ کفر ہیں اور حرام سبھی ہیں واللہ تعالی اعلم کتبہ :علامہ مفتی دانش حنفی ہلدوانی نینیتال
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ